پنجاب پولیس کو پرانے اختیارات واپس مل گئے

پنجاب پولیس
پنجاب میں اسٹیشن ہاؤس آفیسرز (ایس ایچ اوز) کو برطانوی دورِ کے ایک صدی پرانے قانون کے تحت قابلِ ضمانت اور ناقابلِ ضمانت جرائم میں ملزمان کو ضمانت دینے کے عدالتی اختیارات واپس مل گئے۔

اس حوالے سے پنجاب پولیس کے سربراہ انسپکٹر جنرل (آئی جی) امجد سلیم نے محکمہ پولیس کے تمام افسران کو مراسلہ ارسال کردیا جس میں ان احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔

پولیس اسٹیشنز کے انچارج کو مذکورہ اختیارات، سال 1898 کے کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آرپی سی) کی شق 169،496 اور 497 کے تحت تفویض کیے گئے۔

واضح رہے کہ یہ اقدام پولیس اصلاحات کے بنائی گئی کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے بعد اٹھایا گیا جس میں استغاثہ اور عدلیہ کے حوالے کوچھ پولیس اصلاحات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

کمیٹی اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے مجرمانہ نظامِ انصاف میں اصلاحات کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔

خیال رہے کہ سی پی آر سی کے تحت پولیس اسٹیشن کا انچارج کسی مقدمے میں ناکافی شواہد کی بنا پر ملزم کو رہا اور ٹھوس و جوہات پر اس کی گرفتاری ملتوی بھی کرسکتا ہے۔

آئی جی پنجاب کے ارسال کیے گئے حکم نامے میں کہا گیا کہ ’اس قانون کے تحت اگر کسی مقدمے کی تحقیقات کے دوران پولیس اسٹیشن کے سربراہ کو یہ محسوس ہو کہ ملزم کا جرم ثابت کرنے کے شواہد ناکافی ہیں جس پر اسے میجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکتا تو افسر حراست میں موجود اس شخص کو ضمانت کے ساتھ اور بغیر ضمانت کے رہا کرسکتا ہے۔

تاہم اس صورت میں افسر کو اگر ضرورت پڑی تو میجسٹریٹ کے سامنے جرم کی پولیس رپورٹ کے ساتھ پیش ہونا پڑ سکتا ہے۔

جب یہ معاملہ میجسٹریٹ کے سامنے آئے گا تو ضرورت پڑنے پر افسر کو پولیس رپورٹ کے ساتھ پیش ہونا پڑسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پولیس اصلاحات کے چیئرمین نے سپریم کورٹ میں ہونے والے اجلاس کے دوران ضمانت کے لیے عدالتوں پر پڑنے والے اضافی بوجھ اور اس کے منفی اثرات پر تفصیلی غور کیا۔

جس میں یہ بات سامنے آئی کہ کمزور مقدمات کی وجہ سے معصوم شہریوں کو ضمانت کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس کے ساتھ اجلاس میں پولیس کی جانب غیر ضروری گرفتاریوں پر بھی غور کیا گیا۔

ان تمام معاملات پر تفصیلی غور کے بعد عدالتوں سے اضافی بوجھ کم کرنے اور عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پولیس سربراہان کو سی آر پی سی کی مذکورہ دفعات کے تحت حاصل اختیارات کو استعمال کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s